بنگلورو،28؍جون (ایس او نیوز) شہر کے پراپنا اگرہارا سنٹرل جیل میں پولیس کی مبینہ زد و کوب کی وجہ سے 21سالہ نوجوان فیروز کی موت کے معاملے میں انصاف دینے کی پہل کرتے ہوئے ریاستی انسانی حقوق کمیشن نے متوفی کے ورثاء کو دس لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم صادر کرنے کے ساتھ ساتھ اس معاملے کی سی آئی ڈی کے ذریعے تحقیقا ت کروانے کا حکم دیا ہے۔ کمیشن کے چیئرمین جسٹس ڈی ایچ وگھیلا نے اس کیس کی سماعت کرنے کے بعد کہا ہے کہ سی آئی ڈی کی یہ جانچ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کا درجہ رکھنے والے کسی افسر کی نگرانی میں کروائی جائے اور جانچ کو جلد از جلد مکمل کرکے عدالت میں رپورٹ پیش کی جائے۔ متوفی فیروز کے ورثا ء نے پولیس پر یہ الزام لگایا ہے کہ جیل میں قید کے دوران نہ صرف فیروز پر زد و کوب کیا گیا بلکہ اسے علاج کے لیے بھی نہیں لیجایا گیا جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہو گئی۔جیسے ہی اس کی حالت بہت زیادہ بگڑ گئی فیروز کو شہر کے وکٹوریا اسپتال میں داخل کروایا گیا تھا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ اسے گنگر رین ہو گیا ہے۔ دوران علاج فیروز نے دم توڑ دیا۔ پراپنا اگرہارا جیل کے حکام نے اس معاملے کو دبانے کی کوشش کی لیکن فیروز کے رشتہ داروں کی نمائندگی پر اس کیس کی مجسٹریٹ کے ذریعے تحقیق کروائی گئی۔ اس میں پایا گیا کہ پولیس کی زیادتی ہی فیروز کی موت کا سبب تھی۔فیروز کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی یہ تصدیق ہو گئی کہ زیادتی کے سبب ہی موت ہوئی تھی۔پراپنا اگرہارا پولیس نے اسے غیر فطری موت کا ایک معاملہ قرار دے کر فائل بند کرنے کی کوشش کی تھی لیکن جب یہ معاملہ سرخیوں میں آگیا تو حکومت نے اس کی تحقیق مجسٹریٹ سے کرنے کا فیصلہ کیا یہ تحقیق تین ماہ تک جاری رہی اور اپریل میں یہ واضح ہو گیا کہ پولیس کی زیادتی کے متعلق الزام غلط نہیں ہے۔ اپریل۔مئی کے دوران انتخابی ضابطہ لاگو رہنے کے سبب اس پر کاروائی نہیں ہو سکی مجسٹریٹ نے اپنی رپورٹ میں لکھ دیا تھا کہ اس معاملے کو قتل کا ایک کیس قرار دے کر آگے کی کاروائی کی جائے لیکن رپورٹ میں اس کیس کے کلیدی ملزم کا نام شامل نہیں کیا گیا جس پر ایک بار پھر فیروز کے بھائی تبریز نے انسانی حقوق کمیشن سے رجوع کیا۔اپنی عرضی میں اس نے شبہات ظاہر کئے ہیں کہ پراپنّا اگرہارا پولیس کلیدی ملزم اور اس جیل کے وارڈن کو بچانا چاہتی ہے۔ حالانکہ اس کیس میں پولیس نے ایک ایف آئی آر درج کیا لیکن اس میں کسی ملزم کا نام شامل نہیں تھا اس کیس میں کمیشن نے جیل کے ایس پی اور دیگر عہدے داروں کے بیانات لیے۔ سماعت مکمل کرنے کے بعد کمیشن نے سی آئی ڈی کو جلد سے جلد جانچ پوری کرنے کی ہدایت جاری کی اور سرکاری ملازمین کی مبینہ لاپروائی کے نتیجے میں فیروز کی موت کے ہرجانے کے طور پر اس کے ورثا کو معاوضہ ادا کرنے کی حکومت کو ہدایت جاری کی۔